(۸۷۵۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ہُوَ ابْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَوْمًا یَزْعُمُونَ أَنْ لَیْسَ قَدَرٌ۔ قَالَ : فَہَلْ عِنْدَنَا مِنْہُمْ أَحَدٌ قَالَ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : فَأَبْلِغْہُمْ عَنِّی إِذَا لَقِیتَہُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِیئٌ إِلَی اللَّہِ مِنْکُمْ ، وَأَنْتُمْ بُرَئَ ائُ مِنْہُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَیْہِ سِحْنَائُ سَفَرٍ وَلَیْسَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ یَتَخَطَّی حَتَّی وَرَکَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَمَا یَجْلِسُ أَحَدُنَا فِی الصَّلاَۃِ ، ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی رُکْبَتَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ مَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ : ((أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، وَأَنْ تُقِیمَ الصَّلاَۃَ ، وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ ، وَتَعْتَمِرَ ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، وَتُتِمَّ الْوُضُوئَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ))۔ قَالَ : فَإِنْ قُلْتُ ہَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : صَدَقْتَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ یُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَسُقْ مَتْنَہُ۔
[صحیح۔ مسلم ۸۔ ابوداود ۴۶۹۶]
(٨٧٥٥) یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ تقدیر نہیں ہے، کہنے لگے : کیا ان میں سے کوئی ہمارے پاس ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ! تو فرمایا کہ ان کو میری طرف سے یہ پیغام دینا ، جب بھی تم ان سے ملنا کہ ابن عمر تم سے اللہ کی طرف سے بری ہے اور تم اس سے بری ہو۔ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا، اس پر سفر کے اثرات نہ تھے۔ اور نہ ہی وہ اہل علاقہ میں سے تھا، حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا، جس طرح ہم نماز میں بیٹھتے ہیں، پھر اس نے اپنے ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھٹنوں پر رکھے اور پوچھا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسلام کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے کی گواہی دینا ، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور عمرہ کرنا، غسلِ جنابت کرنا ، وضو مکمل کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا : اگر میں یہ کروں تو کیا میں مسلمان ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! پھر اس نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا ہے، (اور ساری حدیث ذکر کی)