(۸۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنِی أَبِی
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ وَلَمْ أَکُنْ سُقْتُ الْہَدْیَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِہِ ، ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔ قَالَتْ : فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَیْلَۃُ عَرَفَۃَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ أَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ ۔ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِی؟ فَقَالَ : ((انْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَمْسِکِی عَنِ الْعُمْرَۃِ وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ))۔ فَلَمَّا قَضَیْتُ حَجَّتِی أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَأَعْمَرَنِی مِنَ التَّنْعِیمِ مَکَانَ عُمْرَتِی الَّتِی أَمْسَکْتُ عَنْہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- إِنَّمَا أَمَرَ أَنْ یُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ وَإِنَّمَا أَمَرَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِذَلِکَ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہَا ہَدْیٌ خَوْفًا مِنْ فَوَاتِ حَجَّتِہَا ثُمَّ إِنَّہُ -ﷺ- ذَبَحَ عَنْ أَزْوَاجِہِ الْبَقَرَ۔ وَحَدِیثُ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ یَقْطَعُ بِکَونِہَا قَارِنَۃً وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۲۱۱]
(٨٧٧٦) (الف) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم حجۃ الوداع کے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے تو میں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور میں قربانی نہیں لے کر آئی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے پاس قربانی ہے وہ عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی کہے اور پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک وہ دونوں سے فارغ نہیں ہوجاتا، فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی تو جب عرفہ کی رات آئی میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے تو عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، اب میں حج کا کیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور عمرہ سے رک جا اور حج کا تلبیہ کہہ۔ تو جب میں نے حج کرلیا تو عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا، اس نے مجھے اس عمرے کے بدلہ جس سے میں روک دی گئی تھی تنعیم سے عمرہ کروایا۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ پکارنے کا حکم انھیں دیا جن کے پاس قربانی تھی، اور سیدہ عائشہ (رض) کو حج کا حکم دیا، کیوں کہ ان کے پاس قربانی نہیں تھی اس ڈر سے کہ کہیں ان کا حج فوت نہ ہوجائے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔