(۸۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَأَبُو الأَزْہَرِ وَحَمْدَانُ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُرِیدُ الْحَجَّ زَمَنَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ النَّاسَ کَائِنٌ بَیْنَہُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ یَصُدُّوکَ فَقَالَ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} إِذَنِ اصْنَعَ کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِظَہْرِ الْبَیْدائِ قَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ إِلاَّ وَاحدًا أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِی وَأَہْدَی ہَدْیًا اشْتَرَاہُ بِقُدَیْدٍ۔ فَانْطَلَقَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلَمْ یَزِدْ عَلَی ذَلِکَ ، وَلَمْ یَنْحَرْ ، وَلَمْ یَحْلِقْ ، وَلَمْ یُقَصِّرْ ، وَلَمْ یَحْلِلْ مِنْ شَیْئٍ کَانَ حَرُمَ مِنْہُ۔ حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ وَحَلَقَ ، ثُمَّ رَأَی أَنْ قَدْ قَضَی طَوَافَہُ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ بِطَوَافِہِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۳۔ مسلم ۱۲۳۰]
(٨٧٨٢) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اس زمانے میں حج کے لیے نکلے جب حجاج ابن زبیر (رض) سے لڑنے کے لیے مکہ پہنچا ہوا تھا تو ان کو کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو روک دیں گے تو فرمانے لگے : تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہترین نمونہ ہے، میں ویسے ہی کروں گا، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کرلیا ہے، پھر نکلے حتیٰ کہ بیدا پر چڑھے تو کہنے لگے : حج و عمرہ کا معاملہ تو ایک ساہی ہے، میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ بھی واجب کرلیا ہے اور انھوں نے قدید سے ایک قربانی بھی خرید لی اور آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ میں پہنچے۔ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور مزید کچھ نہ کیا، قربانی نہ کی، نہ ہی سرمنڈوایا اور نہ ہی بال کٹوائے اور کسی چیز سے حلال نہیں ہوئے جو ان پر حرام تھی حتیٰ کہ جب یوم نحر آیا تو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر دیکھا کہ انھوں نے پہلے طواف کے ساتھ حج و عمرہ کا طواف مکمل کرلیا ہے، پھر فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسی طرح کیا تھا۔