(۸۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ مَوْلاَیَ فَدَخَلْتُ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ فَقَالَتْ : إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ ، وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ۔ فَقُلْتُ : إِنَّہُمْ یَقُولُونَ مَنْ کَانَ صَرُورَۃً فَلاَ یَصْلُحُ أَنْ یَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ فَسَأَلْتُ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ۔ فَرَجَعْتُ إِلَیْہَا فَأَخْبَرْتُہَا فَقَالَتْ : نَعَمْ وَأَشْفِیکَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((أَہِلُّوا یَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَۃٍ فِی حَجٍّ))۔ [صحیح۔ ابن حبان۳۹۲۰۔ احمد۶/۲۹۸]
(٨٧٨٦) ابوعمران کہتے ہیں کہ میں نے اپنے موالی کے ساتھ حج کیا تو میں ام سلمہ (رض) کے پاس گیا اور کہا : کیا حج سے پہلے میں عمرہ کرلوں ؟ تو کہنے لگیں : اگر تو چاہتا ہے تو کرلے اور اگر چاہے تو حج کے بعد عمرہ کرلینا تو میں نے کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ جس نے حج نہ کیا ہو اس کے لیے صبح سے پہلے عمرہ کرنا جائز نہیں ہے پھر میں نے امہات المومنین سے پوچھا انھوں نے بھی وہی بات کہی جو اس نے کہی تھی، میں اس کے پاس پاس آیا اور اس کو خبر دی تو اس نے کہا : ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا کہ اے آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حج کے ساتھعمرہ کا تلبیہ کہو۔