(۸۷۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ فِی مَسْجِدِ الرُّصَافَۃِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ : مُوسَی بْنُ نَافِعٍ الأَسَدِیُّ قَالَ : قَدِمْتُ مَکَّۃَ وَأَنَا مُتَمَتِّعٌ بِعُمْرَۃٍ فَدَخَلْتُ قَبْلَ التَّرْوِیَۃِ بِثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فَقَالَ لِی أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ : تَصِیرُ الآنَ حَجَّتُکَ مَکِّیَّۃً۔ فَدَخَلْتُ عَلَی عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَسْتَفْتِیہِ فَقَالَ حَدَّثَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّہُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ وَقَدْ أَہَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِکُمْ بِالطَّوَافِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَأَقْصِرُوا وَأَنْتُمْ حَلاَلٌ۔ فَإِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ فَأَہِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِی قَدِمْتُمْ بِہَا مُتْعَۃً))۔ قَالُوا : کَیْفَ نَجْعَلُہَا مُتْعَۃً وَقَدْ سَمَّیْنَا الْحَجَّ؟ فَقَالَ: ((افْعَلُوا مَا أَمَرْتُکُمْ۔ فَلَوْلاَ أَنِّی سُقْتُ الْہَدْیَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِی أَمَرْتُکُمْ بِہِ ، وَلَکِنْ لاَ یَحِلُّ مِنِّی حَرَامٌ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ )) فَفَعَلُوا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیمٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِی نُعَیمٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۴۹۳۔ مسلم ۱۲۱۶]
(٨٧٨٨) موسیٰ بن نافع اسدی فرماتے ہیں کہ میں مکہ آیا اور میں حج تمتع کرنے والا تھا، میں یوم ترویہ سے تین دن پہلے مکہ داخل ہوا تو مجھے لوگوں نے کہا : اب تیرا حج مکی بن جائے گا، تو میں عطاء بن ابی رباح کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیی گیا تو انھوں نے کہا : مجھے جابر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا جب وہ قربانیاں ساتھ لے کر گئے اور انھوں نے اکیلے حج کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر کے احرام کھول دو اور سر منڈوا لو تم حلال ہو۔ جب ترویہ کا دن آئے تو حج کا تلبیہ کہہ اور اس کو حج تمتع بنا لو۔ کہنے لگے کہ ہم اس کو تمتع کیسے بنالیں جب کہ ہم نے تو حج کا نام لیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہیں کہا گیا ہے، وہ کرو ! اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسا میں تمہیں کہہ رہا ہوں، لیکن میں احرام اس وقت تک نہیں کھول سکتا جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ لگ جائے تو انھوں نے ایسا ہی کرلیا۔