(۸۸۵۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا سَلِیمُ بْنُ حَیَّانَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الأَصْفَرَ یُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- مِنَ الْیَمَنِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((بِمَا أَہْلَلْتَ؟))۔ فَقَالَ : أَہْلَلْتُ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْلاَ أَنَّ مَعِیَ الْہَدْیَ لأَحْلَلْتُ))۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۸۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْخَلاَّلِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ۔
وَفِیہِ وَفِی حَدِیثِ جَابِرٍ جَعْلُ الْعِلَّۃِ فِی امْتِنَاعِہِ مِنَ التَّحَلُّلِ کَوْنُ الْہَدْیِ مَعَہُ وَالْقَارِنُ لاَ یَحِلُّ مِنْ إِحْرَامِہِ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا سَوَائً کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ أَوْ لَمْ یَکُنْ وَدَلَّ ذَلِکَ عَلَی خَطَإِ تِلْکَ اللَّفْظَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(٨٨٥٢) (الف) علی (رض) یمن سے آئے تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کیا تلبیہ کہا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : وہی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا۔
(ب) سیدنا جابر (رض) کی حدیث میں یہ علت بیان کی گئی ہے کہ حلال ہونے سے ممانعت آپ کے ساتھ قربانی کا ہونا تھا، حج قران والا اپنے احرام سے حلال نہیں ہوگا، اس کے علاوہ دونوں (حج افراد، حج تمتع والا) حلال ہوجائیں گے ، خواہ ان کے پاس قربانی ہو یا نہ ہو۔ ان لفظوں کے ساتھ اس پر دلالت درست نہیں۔