(۸۸۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ وَأَہْدَی فَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ ثُمَّ أَہَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ فَکَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَہْدَی فَسَاقَ الْہَدْیَ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یُہْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَکَّۃَ قَالَ لِلنَّاسِ : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتَّی یَقْضِیَ حَجَّہُ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مِنْکُمْ أَہْدَی فَلْیَطُفْ بِالْبَیْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلْیَتَحَلَّلْ ثُمَّ لِیُہِلَّ بِالْحَجِّ وَیُہْدِی ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ))۔ وَطَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ قَدِمَ مَکَّۃَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ شَیْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَۃَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَی أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَکَعَ حِینَ قَضَی طَوَافَہُ بِالْبَیْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعَۃَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ یَحْلِلْ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتَّی قَضَی حَجَّہُ وَنَحَرَ ہَدْیَہُ یَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی بِالْبَیْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ أَہْدَی وَسَاقَ الْہَدْیَ مِنَ النَّاسِ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۶۰۶۔ مسلم ۱۲۲۷]
(٨٨٥٧) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجِ وداع کے موقع پر تمتع کیا اور قربانی ذبح کی۔ ذوالحلیفہ سے اپنے ساتھ قربانی لے کر گئے اور پہلے عمرہ کا تلبیہ کہا پھر حج کا اور لوگوں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تمتع کیا اور لوگوں میں سے کچھ اپنے ساتھ قربانی لے کر گئے تھے اور کچھ نہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا : جس کے پاس قربانی موجود ہے، وہ اس وقت تک حلال نہ ہو جب تک حج سے فارغ نہیں ہوتا اور جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کرے اور حلال ہوجائے، پھر حج کے لیے تلبیہ کہے اور قربانی دے اور جس کو قربانی نہیں ملتی تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات گھر واپس جا کر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، سب سے پہلے رکن کا استلام کیا، پھر تین چکر تیز چلے اور چار آہستہ پھر طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں ادا کیں، پھر سلام پھیر کر صفا پر پہنچے اور صفا ومروہ کے سات چکر لگائے اور پھر حرام شدہ چیزوں میں سے کسی چیز کے لیے بھی حلال نہ ہوئے حتیٰ کہ حج مکمل کیا اور یوم نحر کو قربانی دی، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر ہر کام کے لیے حلال ہوگئے جو (احرام کی وجہ سے) حرام تھا اور لوگوں میں سے بھی جو قربانی ساتھ لایا تھا، اس نے اسی طرح کیا۔