(۸۸۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَۃَ قَالَ : تَمَتَّعْتُ فَنَہَانِی نَاسٌ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِی بِہَا فَرَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ کَأَنَّ رَجُلاً یَقُولُ لِی حَجٌّ مَبْرُورٌ وَعُمْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ۔ فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ سُنَّۃُ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ أَبُو جَمْرَۃَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَقِمْ عِنْدِی وَأَجْعَلُ لَکَ سَہْمًا مِنْ مَالِی۔ قَالَ شُعْبَۃُ فَقُلْتُ لَہُ : وَلِمَ قَالَ لَکَ ذَلِکَ؟ فَقَالَ لِلرُّؤْیَا الَّتِی رَأَیْتُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۱۲۱۱]
(٨٨٦٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو مکہ پہنچے تو ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس نے غصہ دلایا ہے ، اللہ اس کو جہنم رسید کرے۔ فرمانے لگے : کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ہے اور وہ اس میں متردد ہیں۔ حکم کہتے ہیں کہ گویا کہ وہ ڈر گئے، میں سمجھتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہوجاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا بلکہ یہیں سے خریدتا اور اسی طرح حلال ہوجاتا جس طرح یہ حلال ہوئے۔