hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8890

.

سنن البيهقي

8890
Sunan Al Bayhaqi
(۸۸۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ أَتَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ فَقُلْتُ : إِنَّ امْرَأَۃً مِنَّا أَرَادَتْ أَنْ تَضُمَّ مَعَ حَجِّہَا عُمْرَۃً فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {الْحَجُّ أَشْہُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرۃ: ۱۹۷] فَلاَ أُرَی ہَذِہِ إِلاَّ أَشْہُرَ الْحَجِّ۔ وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ الصُّبَیِّ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّہُمَا کَرِہَا ذَلِکَ حَتَّی بَیَّنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَوَازَہَا ، وَکَرَاہِیَۃُ مَنْ کَرِہَ ذَلِکَ أَظُنُّہَا عَلَی الْوَجْہِ الَّذِی رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فَقَدْ رُوِیَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ : نُسُکَانِ أُحِبُّ أَنْ یَکُونَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا شَعَثٌ وَسَفَرٌ فَثَبَتَ بِالسُّنَّۃِ الثَّابِتَۃِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَوَازُ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَالإِفْرَادِ وَثَبَتَ بِمُضِیِّ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَجٍّ مُفْرَدٍ ثُمَّ بِاخْتِلاَفِ الصَّدْرِ الأَوَّلِ فِی کَرَاہِیَۃِ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ دُونَ الإِفْرَادِ کَوْنُ إِفْرَادِ الْحَجِّ عَنِ الْعُمْرَۃِ أَفْضَلُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(٨٨٨٧) (الف) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ (رض) کے پاس آیا اور کہا کہ ہم میں سے ایک عورت حج کے ساتھ عمرہ کو ملانا چاہتی ہے تو عبداللہ (رض) نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے : ” حج کے مہینے معلوم ہیں “ اور میں تو ان کو ہی حج کے مہینے سمجھتا ہوں۔
(ب) زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ اسے ناپسند کرتے تھے، عمر بن خطاب (رض) سے جواز کا بیان ہے کراہت کی وجہ وہ روایت ہے جو ہم نے سیدنا عمر (رض) سے نقل کی ہے، عبداللہ بن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ دو قربانیاں مجھے ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے پسند ہیں، چونکہ ان دونوں کے لیے ہی سفر اور مشقت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمتع، قران اور افراد کا جواز ثابت ہے، پیچھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجِ افراد کے بارے میں گزر چکا ہے، شروع میں تمتع اور قران کی کراہیت کا اختلاف گزر چکا ہے۔ حجِ افراد عمرہ سے افضل ہے۔ واللہ اعلم