hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8892

.

سنن البيهقي

8892
Sunan Al Bayhaqi
(۸۸۸۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَاصِلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِیَاثٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ مُتْعَۃِ الْحَاجِّ فَقَالَ : أَہَلَّ الْمُہَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ وَأَزْوَاجُ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَأَہْلَلْنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اجْعَلُوا إِہْلاَلَکُمْ بِالْحَجِّ عُمْرَۃً إِلاَّ مَنْ قَلَّدَ الْہَدْیَ طُفْنَا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَأَتَیْنَا النِّسَائَ وَلَبِسْنَا الثِّیَابَ ۔ وَقَالَ : مَنْ قَلَّدَ الْہَدْیَ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیَ مَحِلَّہُ))۔ ثُمَّ أَمَرَنَا عَشِیَّۃَ التَّرْوِیَۃِ أَنْ نُہِلَّ بِالْحَجِّ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ الْمَنَاسِکِ جِئْنَا فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَدْ تَمَّ حَجُّنَا وَعَلَیْنَا الْہَدْیُ کَمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ إِذَا رَجَعْتُمْ} [البقرۃ: ۱۹۶] إِلَی أَمْصَارِکُمْ وَالشَّاۃُ تُجْزِئُ فَجَمَعُوا نُسُکَیْنِ فِی عَامٍ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّ اللَّہَ أَنْزَلَہُ فِی کِتَابِہِ وَسُنَّۃِ نَبِیِّہِ وَأَبَاحَہُ غَیْرُ أَہْلِ مَکَّۃَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {ذَلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ أَہْلُہُ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرۃ: ۱۹۶] وَأَشْہُرُ الْحَجِّ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ : شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحَجَّۃِ ، مَنْ تَمَتَّعَ فِی ہَذِہِ الأَشْہُرِ فَعَلَیْہِ دَمٌ أَوْ صَوْمٌ وَالرَّفَثُ : الْجِمَاعُ وَالْفُسُوقُ : الْمَعَاصِی وَالْجِدَالُ : الْمِرَائُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۹۷]
(٨٨٨٩) ابن عباس (رض) سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ مہاجرین و انصار اور ازواجِ مطہرات (رض) نے حجۃ الوداع کے موقع پر تلبیہ کہا اور ہم نے بھی کہا، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے حج کے تلبیہ کو عمرہ سے بدل دو، سوائے اس شخص کے جو قربانی لے کر آیا ہے۔ “ تو ہم نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا، عورتوں کے پاس آئے اور کپڑے پہنے اور فرمایا : ” جس نے قربانی کو قلادہ ڈالا ہے وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ قربانی اپنے ٹھکانے لگ جائے۔ “ پھر ہمیں ترویہ کی رات حکم دیا کہ ہم حج کا تلبیہ کہیں تو جب ہم مناسک سے فارغ ہوئے تو ہم نے آکر بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا اور ہمارا حج مکمل ہوگیا اور ہمارے ذمہ قربانی تھی جیسا کہ اللہ نے کہا ہے ” جو قربانی بھی میسر آئے وہ دو اور جو قربانی نہیں پاتا تو وہ تین دن حج میں اور سات گھر جا کر روزہ رکھے ، اپنے شہروں میں اور بکری بھی کفایت کر جائے گی تو انھوں نے اس سال دونوں کام کیے حج بھی اور عمرہ بھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اور اپنے نبی کی سنت میں بھی اور اہل مکہ کے علاوہ سب نے اس کو حلال جانا ہے ، اللہ کا فرمان ہے : ” یہ اس کے لیے ہے جس کا گھر مسجد حرام کے قریب نہیں “ اور حج کے مہینے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے : شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں، جو ان دنوں تمتع کرتا ہے اس پر قربانی یا روزے فرض ہیں اور رفث کا معنی جماع ہے، فسوق، گناہ ، جدال اور جھگڑے کو کہتے ہیں۔