(۸۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ : مَنِ اعْتَمَرَ فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ فِی شَوَّالٍ أَوْ ذِی الْقَعْدَۃِ أَوْ ذِی الْحِجَّۃِ فَقَدْ اسْتَمْتَعَ وَوَجَبَ عَلَیْہِ الْہَدْیُ أَوِ الصِّیَامُ إِنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا۔
وَرُوِّینَا فِی الْبابِ قَبْلَہُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُتْعَۃِ : إِنَّہَا لاَ تَتِمُّ إِلاَّ أَنْ یُہْدِیَ صَاحِبُہَا ہَدْیًا أَوْ یَصُومَ إِنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَہْلِہِ۔ وَإِنَّ الْعُمْرَۃَ فِی غَیْرِ أَشْہُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَیْرِ ہَدْیٍ وَلاَ صِیَامٍ۔ [صحیح۔ مالک ۴۵۰]
(٨٨٩٢) (الف) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے حج کے مہینوں، یعنی شوال ذوالقعدہ، ذوالحجہ میں عمرہ کیا تو وہ متمتع ہوگیا اور اس پر قربانی واجب ہے اگر نہ ملے تو روزے رکھے۔
(ب) اس سے پہلے باب میں ابن عمر (رض) کی بات جو انھوں نے تمتع کے بارے میں کہی وہ ہم نے بیان کردی کہ وہ متمتع نہیں ہوگا مگر یہ کہ قربانی کرے ۔ اگر قربانی نہیں ہے تو روزہ رکھے تین روزے حج میں اور سات جب گھر واپس لوٹے۔ عمرہ حج کے مہینوں کے علاوہ بغیر قربانی اور روزے کے مکمل ہوتا ہے۔