(۸۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَہَلَّ مِنَ الْفُرْعِ
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَہَذَا عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ مَرَّ بِمِیقَاتِہِ لَمْ یُرِدْ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً ثُمَّ بَدَا لَہُ مِنَ الْفُرْعِ فَأَہَلَّ مِنْہَا أَوْ جَائَ الْفُرْعَ مِنْ مَکَّۃَ أَوْ غَیْرِہَا ثُمَّ بَدَا لَہُ الإِہْلاَلُ فَأَہَلَّ مِنْہَا وَہُو رَوَی الْحَدِیثَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْمَوَاقِیتِ۔ [صحیح۔ مالک ۷۲۷]
(٨٩٢٣) (الف) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے ” فرع “ سے تلبیہ کا آغاز فرمایا۔
(ب) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : ہمارا مذہب یہ ہے کہ وہ اپنے میقات سے گزرے تو حج اور عمرہ کو نہیں لوٹائے گا پھر اس کو فرع جگہ پر معلوم ہوا تو وہاں سے تلبیہ پکارا نا، مکہ سے فرع آیا ، یا مکہ کے علاوہ کہیں اور سے ہو اسے میقات کا معلوم ہوا تو اس نے وہاں سے تلبیہ پکارا۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ بات ہمارے نزدیک یوں ہے۔ (واللہ اعلم) کہ عبداللہ بن عمر (رض) میقات پر سے گزرے تو ان کا حج یا عمرہ کا کوئی ارادہ نہ تھا ، پھر جب فرع پہنچے تو ان کا ارادہ بن گیا تو انھوں نے وہیں سے تلبیہ کا آغاز کردیا اور یہ خود ہی مواقیت والی حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔