(۸۹۶۸) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : الدَّیْرَعَاقُولِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ وَجَدَ مِنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رِیحَ طِیبٍ وَہُوَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ وَہُمْ حُجَّاجٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مِمَّنْ رِیحُ ہَذَا الطِّیبِ؟ قَالَ : شَیْئٌ طَیَّبَتْنِی أُمُّ حَبِیبَۃَ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَعَمْرِی أُقْسِمُ بِاللَّہِ لَتَرْجِعَنَّ إِلَیْہَا حَتَّی تَغْسِلَہُ فَوَاللَّہِ لأَنْ أَجِدَ مِنَ الْمُحْرِمِ رِیحَ الْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَجِدَ مِنْہُ رِیحَ الطِّیبِ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ : وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ لَمْ یَبْلُغْہُ حَدِیثُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَلَوْ بَلَغَہُ لَرَجَعَ عَنْہُ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ ذَلِکَ کَیْلاَ یَغْتَرَّ بِہِ الْجَاہِلُ فَیَتَوَہَّمَ أَنَّ ابْتِدَائَ الطِّیبِ یَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ کَمَا قَالَ لِطَلْحَۃَ فِی الثَّوْبِ الْمُمَشَّقِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(٨٩٦٨) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عمر (رض) حج پر جاتے ہوئے جبذوالحلیفہ پہنچے تو معاویہ (رض) سے خوشبو سونگھی تو پوچھا کہ یہ خوشبو کس سے آرہی ہے ؟ تو اس نے کہا : یہ ام حبیبہ نے مجھے خوشبو لگا دی ہے تو عمر (رض) نے فرمایا : میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تو اس کو جا کر اسی سے دھلوا دے، اللہ کی قسم ! میں اگر محرم سے گندھک کی خوشبو میں پاؤں تو یہ میرے نزدیک زیادہ بہتر ہے۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ شاید انھیں سیدہ عائشہ (رض) والی حدیث نہیں پہنچی ۔ اگر پہنچتی تو وہ اس سے ضرور رجوع فرما لیتے اور ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اس وجہ سے اس کو ناپسند کیا ہو کہ جاہل آدمی یہ سمجھ بیٹھے گا کہ اس نے احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگائی ہے اور وہ اس کو جائز سمجھ بیٹھے۔