(۸۹۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَطَائٌ الْخُرَاسَانِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی أَہْلِی لَیْلاً وَقَدْ تَشَقَّقَتْ یَدَایَ فَخَلَّقُونِی بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ وَلَمْ یُرَحِّبْ بِی وَقَالَ : ((اذْہَبْ فَاغْسِلْ ہَذَا عَنْکَ)) فَذَہَبْتُ فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْہُ رَدْعٌ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ وَلَمْ یُرَحِّبْ بِی فَقَالَ : ((اذْہَبْ فَاغْسِلْ ہَذَا عَنْکَ)) فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ وَرَحَّبَ بِی وَقَالَ : ((إِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ لاَ تَحْضُرُ جَنَازَۃَ الْکَافِرِ بِخَیْرٍ وَلاَ الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ وَلاَ الْجُنُبَ))۔ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَکَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ یَتَوَضَّأَ۔[ضعیف۔ ابوداود ۴۱۷۶۔ احمد ۴/ ۲۱۰]
(٨٩٧٢) عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت گھر آیا اور میرے ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو انھوں نے مجھے زعفران لگا دیا، صبح میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور سلام کہا تو نہ تو آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا اور فرمایا : جا اور اس کو دھو کر آ۔ میں گیا اور اس کو دھویا اور پھر آیا اور کچھ نشان سا ابھی اس کا باقی تھا تو میں نے سلام کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ مجھے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی مرحبا کہا اور فرمایا : جا کر اس کو دھو کے آ، میں نے اس کو دھویا اور پھر آکر سلام کہا : آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا : فرشتے کافر کے جنازے پر خیر کے ساتھ نہیں آتے اور نہ ہی جنبی کے پاس اور نہ ہی زعفران لگانے والے کے پاس۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ کھانے یا سونے لگے تو وضو کرلے۔