(۹۰۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یُحْیِی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ فِی بَنِی سَلِمَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی اسْتَوَتْ نَاقَتُہُ عَلَی الْبَیْدَائِ أَہَلَّ بِالتَّوْحِیدِ ((لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ))۔ قَالَ : وَالنَّاسُ یَزِیدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَہُ مِنَ الْکَلاَمِ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یَسْمَعُ فَلاَ یَقُولُ لَہُمْ شَیْئًا۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۸]
(٩٠٣١) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : ہم جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس آئے جب کہ وہ بنو سلمہ میں تھے، ہم نے ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے حتی کہ جب آپ کی اونٹنی بیداء پر چڑھی تو آپ نے توحید کا تلبیہ کہا ” لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ “ کہتے ہیں کہ لوگ اس میں ذا المعارج وغیرہ کے الفاظ زیادہ کرتے ، جب کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سن رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا۔