(۹۰۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ الْمُشْرِکِینَ کَانُوا یَطُوفُونَ بِالْبَیْتِ فَیَقُولُونَ : لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ۔ فَیَقُولُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((قَدْ قَدْ))۔
فَیَقُولُونَ : إِلاَّ شَرِیکَ ہُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ۔ وَیَقُولُونَ : غُفْرَانَکَ غُفْرَانَکَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللَّہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} [الانفال: ۳۳]فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : کَانَ فِیہِمْ أَمَانَانِ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- وَالاِسْتِغْفَارُ قَالَ فَذَہَبَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- وَبَقِیَ الاِسْتِغْفَارُ {وَمَا لَہُمْ أَلاَّ یُعَذِّبَہُمُ اللَّہُ وَہُمْ یَصِدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا کَانُوا أَوْلِیَائَ ہُ إِنْ أَوْلِیَاؤُہُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ} [الانفال: ۳۴] قَالَ : فَہَذَا عَذَابُ الآخِرَۃِ وَذَلِکَ عَذَابُ الدُّنْیَا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ مُخْتَصَرًا دُونَ قَوْلِہِمْ غُفْرَانَکَ إِلَی آخِرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۵۰]
(٩٠٣٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے : لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : بس بس، تو وہ کہتے : إِلاَّ شَرِیکَ ہُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ ۔ ” ہم حاضر ہیں حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرا ہی ہے اس کا اور اس کی مملوکہ ہر چیز کا تو ہی مالک ہے۔ “ اور وہ کہتے : اے اللہ ! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں، مغفرت چاہتے ہیں، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ } [الانفال : ٣٣]” جب آپ ان میں موجود ہوں تو اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں اور نہ ہی اس وقت جب کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ “ (ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ان میں دو امانتیں تھیں اللہ کے نبی اور استغفار تو اللہ کے نبی چلے گئے اور استغفار باقی رہ گئی اور یہ آیت { وَمَا لَہُمْ أَلاَّ یُعَذِّبَہُمُ۔۔۔} [الانفال : ٣٤] اور کیا وجہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے حالاں کہ مسجد حرام سے روکتے ہیں جب کہ وہ اس کے والی نہیں، اس کے والی تو صرف متقی ہی ہیں ، اس میں جو عذاب کا ذکر ہے یہ اخروی عذاب ہے اور پہلی آیت میں جو عذاب کا ذکر ہے وہ دنیوی عذاب ہے۔