(۹۰۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کُنَّا نَلْبَسُ مِنَ الثِّیَابِ إِذَا أَہْلَلْنَا مَا لَمْ نُہِلَّ فِیہِ وَنَلْبَسُ الْمُمَشَّقِ إِنَّمَا ہُوَ بَطِینٍ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- غَیَّرَ ثَوْبَیْہِ بِالتَّنْعِیمِ وَہُوَ مُحْرِمٌ أَوْرَدَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلَ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ ۲۶۸۹]
(٩٠٧٣) (الف) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم احرام باندھتے تو اس وقت تک پہنے رہتے جب تک وہ غبار آلود نہ ہوجاتا۔
ابن عباس کے غلام عکرمہ سے روایت ہے کہ (رض) نے تنعیم میں کپڑے تبدیل کیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احرام کی حالت میں تھے۔ اس کو ابوداؤد نے مراسیل میں ذکر کیا ہے۔