(۹۰۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَعَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ وَاقِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَفَۃَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِہِ قَالَ أَیُّوبُ : فَوَقَصَتْہُ وَقَالَ عَمْرٌو : فَأَقْعَصَتْہُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوہُ فِی ثَوْبَیْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوہُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یُلَبِّی))۔ وَقَالَ عَمْرٌو : مُلَبِّیًا ۔ قَالَ إِسْمَاعِیلُ ہَکَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ وَخَالَفَہُ عَارِمٌ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَاتَّفَقَا عَلَی أَنَّ عَمْرًا قَالَ : یُلَبِّی ۔ وَأَنَّ أَیُّوبَ قَالَ : مُلَبِّیًا ۔
وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْہُمَا کَمَا قَالَ عَارِمٌ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَسُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو کَمَا رَوَاہُ حَمَّادٌ : ((لاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ))۔ لَیْسَ فِیہِ ذِکْر الِوَجْہِ۔۔ وَرُوِیَ عَنْ وَکِیعٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَمْرٍو فَذَکَرَ مَعَہُ الْوَجْہَ ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٩٠٨٢) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عرفہ میں کھڑا تھا کہ اس کو اس کی اونٹنی نے گرا دیا اور وہ مرگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی نہ ڈھانپو، یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے کو اٹھائے گا۔