(۹۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- وَہُوَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ وَعَلَیْہِ أَثَرُ الْخَلُوقِ قَالَ ہَمَّامٌ أَوْ قَالَ أَثَرُ الصُّفْرَۃِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ تَأْمُرُنِی أَنْ أَصْنَعَ فِی عُمْرَتِی؟ قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : فَسُتِرَ بِثَوْبٍ قَالَ وَکَانَ یَعْلَی یَقُولُ : وَدِدْتُ لَوْ أَنِّی قَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ : أَیَسُرُّکَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ قُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ وَلَہُ غَطِیطٌ قَالَ ہَمَّامٌ أَحْسِبُہُ کَغَطِیطِ الْبَکْرِ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ قَالَ :((أَیْنَ السَّائِلَ عَنِ الْعُمْرَۃِ اخْلَعْ عَنْکَ ہَذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ أَثَرَ الْخَلُوقِ)) أَوْ قَالَ أَثَرَ الصُّفْرَۃِ ((وَاصْنَعْ فِی عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِی حَجِّکِ))۔ [صحیح۔ بخاری ۱۹۷۔ مسلم ۱۱۸۰]
(٩٠٩٧) یعلی بن امیہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جب کہ آپ جعرانہ میں تھے اور اس نے جبہ پہنا ہوا تھا جس پر ” خلوق “ کے نشانات تھے، اس نے کہا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں عمرہ میں کیسے کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل کی۔ یعلی کہتے ہیں کہ مجھے بڑا شوق تھا کہ میں آپ پر وحی نازل ہوتی دیکھوں تو عمر (رض) نے کہا : کیا تو نبی پر وحی اترتی دیکھنا چاہتا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں تو اس نے ایک جانب سے کپڑا اٹھایا تو میں نے آپ کی طرف دیکھا اور آپ کی کچھ آواز نکل رہی تھی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : وہ عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے ؟ وہ اس جبہ کو اتار دے اور خلوق کے اثرات کو دھو ڈال اور عمرہ میں ویسے ہی کر جیسے تو حج میں کرتا ہے۔