(۹۱۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حُجَّاجًا وَأَنَّ زِمَالَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَزِمَالَۃَ أَبِی بَکْرٍ وَاحِدٌ فَنَزَلْنَا الْعَرْجَ وَکَانَتْ زِمَالَتُنَا مَعَ غُلاَمِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَجَلَسَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلَی جَنْبِہِ وَجَلَسَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی جَنْبِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ وَجَلَسْتُ إِلَی جَنْبِ أَبِی نَنْتَظِرُ غُلاَمَہُ وَزَمَالَتَہُ حَتَّی یَأْتِیَنَا فَاطَّلَعَ الْغُلاَمُ یَمْشِی وَمَا مَعَہُ بَعِیرُہُ۔ قَالَ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیْنَ بَعِیرُکَ؟ قَالَ : أَضَلَّنِی اللَّیْلَۃَ قَالَتْ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَضْرِبُہُ وَیَقُولُ : بَعِیرٌ وَاحِدٌ أَضَلَّکَ وَأَنْتَ رَجُلٌ فَمَا یَزِیدُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَنْ یَتَبَسَّمَ وَیَقُولُ: ((انْظُرُوا إِلَی ہَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا یَصْنَعُ))۔ [ضعیف۔ ابن خزیمہ ۲۶۷۹۔ حاکم ۱/۶۲۳]
(٩١٧٧) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے قافلہ کا سامان ایک ہی جگہ تھا اور ہمارا سامان ابوبکر (رض) کے غلام کے پاس تھا، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تو عائشہ (رض) آپ کے ایک طرف بیٹھ گئیں اور ابوبکر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوسری جانب بیٹھ گئے اور میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ہم ان کے غلام اور اس سامان کا انتظار کرنے لگے کہ کب آتا ہے تو وہ غلام چلتا ہوا آیا، اس کے پاس اونٹ نہیں تھا ، ابوبکر (رض) اس کو کہا : تیرا اونٹ کدھر ہے ؟ تو وہ کہنے لگا : آج رات وہ گم ہوگیا ہے، کہتی ہیں کہ ابوبکر (رض) اٹھے اور اس کو مارنے لگے اور کہنے لگے : ایک اونٹ بھی تو نے گم کردیا تو کیسا آدمی ہے ، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے زیادہ اور کچھ نہ کیا کہ آپ مسکراتے اور فرماتے تھے : اس محرم کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے۔