(۹۱۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِیُّ عَنْ أَبِیہِ :
أَن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَکِبَ رَاحِلَۃً لَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَتَدَلَّتْ فَجَعَلَتْ تُقَدِّمُ یَدًا وَتُؤَخِّرُ أُخْرَی قَالَ الرَّبِیعُ أَظُنُّہُ قَالَ عُمَرَ کَأَنَّ رَاکِبَہَا غُصْنٌ بِمَرْوَحَۃٍ إِذَا تَدَلَّتْ بِہِ أَوْ شَارِبٌ ثَمِلٌ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ۔ [ضعیف۔ شافعی ۱۶۸۸]
(٩١٨٣) عمر بن خطاب (رض) محرم تھے، اونٹنی پر سوار ہوئے تو وہ اڑی کرنے لگی، ایک قدم آگے بڑھائی تو دوسرا پیچھے کرتی تو انھوں نے کہا : ” گویا کہ اس کا سوار پنکھے کی ٹہنی ہے، جب وہ اس کو لے کر اڑ جاتا ہے یا پینے والا سست ہے “ پھر کہا : اللہ اکبر، اللہ اکبر۔