(۹۱۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُشْرِکِی قُرَیْشٍ کَتَبَ بَیْنَہُمْ کِتَابًا : ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَمْ نُقَاتِلْکَ قَالَ لِعَلِیٍّ : امْحُہُ ۔ فَأَبَی فَمَحَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِیَدِہِ وَکَتَبَ : ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَاشْتَرَطُوا أَنْ یُقِیمُوا ثَلاَثًا وَلاَ یَدْخُلُوا مَکَّۃَ بِسِلاَحٍ إِلاَّ جُلُبَّانَ السِّلاَحِ۔
قَالَ شُعْبَۃُ قُلْتُ لأَبِی إِسْحَاقَ : مَا جُلُبَّانُ السِّلاَحِ؟ قَالَ : السَّیْفُ بِقِرَابِہِ أَوْ بِمَا فِیہِ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۵۱۔ مسلم ۱۷۸۳]
(٩١٨٩) براء (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین قریش سے صلح کی تو ایک تحریر لکھی : ” یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی، وہ کہنے لگے : اگر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول سمجھتے ہوں تو کبھی بھی آپ سے لڑائی نہ کریں، تو آپ نے علی (رض) کو فرمایا : اس کو مٹا دے تو انھوں نے انکار کیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اس کو مٹا دیا اور لکھا کہ یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ (e ) صلح کی ہے اور انھوں نے شرط لگائی کہ وہ تین دن تک رہیں گے اور مکہ میں تلوار نیام سمیت کے علاوہ اور کوئی اسلحہ نہ لائیں گے۔