(۹۱۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالَ : صَحِبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْحَجِّ فَما رَأَیْتُہُ مُضْطَرِبًا فُسْطَاطًا حَتَّی رَجَعَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَأَظُنُّہُ قَالَ فِی حَدِیثِہِ أَوْ غَیْرِہِ کَانَ یَنْزِلُ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ وَیَسْتَظِلُّ بِنِطَعٍ أَوْ بِکِسَائٍ وَالشَّیْئِ۔
[حسن۔ شافعی ۱۶۸۲]
(٩١٩١) (الف) عبداللہ بن عیاش بن ربیعہ فرماتے ہیں : میں حج میں عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ رہا ہوں، میں نے انھیں خیمے کی طرف بھاگتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ حج سے لوٹ آئے۔
(ب) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : اس کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس حدیث یا اس کے علاوہ دوسری حدیث میں کہا : ” کسی درخت کے نیچے اترتے اور چھتری سے سایہ حاصل کرتے یا کپڑے اور دوسری چیز سے۔