(۹۲۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَنَا مِنْ مَکَّۃَ بَاتَ بِذِی طُوًی بَیْنَ الثَّنِیَّتَیْنِ حَتَّی یُصْبِحَ ثُمَّ یَدْخُلُ مِنَ الثَّنِیَّۃِ الَّتِی بِأَعْلَی مَکَّۃَ وَلاَ یَدْخُلُ مَکَّۃَ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا حَتَّی یَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِذِی طُوًی وَیَأْمُرُ مَنْ مَعَہُ فَیَغْتَسِلُونَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلُوا۔
وَرُوِّینَا فِی الْغُسْلِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ مالک ۷۰۵]
(٩٢٠١) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب مکہ کے قریب ہوتے تو ذی طوی میں رات دونوں ٹیلوں کے درمیان گزارتے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی، پھر مکہ میں بالائی چوٹی سے داخل ہوتے اور جب بھی حج یا عمرہ کرنے کے لیے نکلتے تو ذی طوی میں غسل کیے بغیر مکہ میں داخل نہ ہوتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی داخل ہونے سے پہلے غسل کرنے کا حکم دیتے۔