(۹۲۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ طَرِیفٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ یَعْقُوبَ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَلِمَۃً مَا بَقِیَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ سَمِعَہَا غَیْرِی سَمِعْتُہُ یَقُولُ إِذَا رَأَی الْبَیْتَ: اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ۔ قَالَ الْعَبَّاسُ قُلْتُ لِیَحْیَی مَنْ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَرِیفٍ ہَذَا؟ قَالَ: یَمَامِیٌّ۔ قُلْتُ : فَمَنْ حُمَیْدُ بْنُ یَعْقُوبَ ہَذَا؟ قَالَ رَوَی عَنْہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ۔
[حسن۔ تاریخ ابن معین ۲۱۷۳]
(٩٢١٦) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے ایک ایسا کلمہ سنا ہے کہ جس کو سننے والا میرے علاوہ اور کوئی بھی باقی نہیں ہے میں ان کو یہ کہتے سنا جب انھوں نے بیت اللہ کو دیکھا : اے اللہ ! تو سلام ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ہے، ہمیں ہمارے رب سلامتی کے ساتھ زندہ رکھا۔