(۹۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ وَہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : دَخَلْنَا مَکَّۃَ عِنْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَی فَأَتَی النَّبِیُّ -ﷺ بَابَ الْمَسْجِدِ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَہُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ وَفَاضَتْ عَیْنَاہُ بِالْبُکَائِ ثُمَّ رَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَی أَرْبَعًا حَتَّی فَرَغَ فَلَمَّا فَرَغَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلَیْہِ وَمَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ۔
[منکر۔ حاکم ۱/ ۶۲۵]
(٩٢٢١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے دروازے پر آئے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور حجر اسود سے آغاز فرمایا ، اس کو چھوا اور آپ کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں، پھر آپ تین چکر دوڑے اور چار چلے حتی کہ جب فارغ ہوئے تو حجر اسود کو بوسہ دیا اور اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور ان کو اپنے چہرے پر پھیرا۔