(۹۲۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَتِیقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَابَیْہِ عَنْ بَعْضِ وَلَدِ یَعْلَی عَنْ یَعْلَی قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّکْنَیْنِ الْغَرْبِیَّیْنِ قُلْتُ : أَلاَ تَسْتَلِمُ وَصِرْتُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْحَائِطِ فَقَالَ : أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -؟ قُلْتُ : بَلَی۔ قَالَ : أَفَرَأَیْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَسْتَلِمُہُ؟ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : فَلَکَ فِی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ انْفُذْ عَنْکَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : وَأَمَّا الْعِلَّۃُ فِیہِمَا فَنُرَی أَنَّ الْبَیْتَ لَمْ یُتَمَّمْ عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاہِیمَ فَکَانَا کَسَائِرِ الْبَیْتِ۔ [ضعیف۔ احمد ۱/ ۴۵۔ عبدالرزاق ۸۹۴۵]
(٩٢٤٢) (الف) یعلی فرماتے ہیں کہ میں عمر (رض) کے ساتھ طواف کر رہا تھا، ہم مغربی رکنوں کے پاس پہنچے تو میں نے کہا : آپ ان کو کیوں نہیں چھوتے اور میں ان کے اور دیوار کے درمیان حائل ہوگیا تو انھوں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طواف نہیں کیا ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، انھوں نے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انھیں چھوتے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، انھوں نے کہا : تو آپ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہترین نمونہ ہے اس کو ہی اپنائیے۔
(ب) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : ان دونوں میں علت جو ہم دیکھتے ہیں یہ ہے کہ بیت اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا تو وہ دونوں بیت اللہ کی طرح ہوگئے۔
امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق سبب یہ ہے کہ بیت اللہ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا گیا ، لہٰذا یہ کونے بھی بیت اللہ کی طرف ہیں۔