(۹۲۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ قَالَ لِی عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنِی أَبُو عَاصِمٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ إِذْ مَنَعَ ابْنُ ہِشَامٍ النِّسَائَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ قَالَ : کَیْفَ تَمْنَعُہُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَائُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -؟ قُلْتُ : أَبَعْدَ الْحِجَابِ أَوْ قَبْلُ؟ قَالَ : إِی لَعَمْرِی لَقَدْ أَدْرَکْتُہُ بَعْدَ الْحِجَابِ۔ قُلْتُ : کَیْفَ یُخَالِطْنَ الرِّجَالَ؟ قَالَ : لَمْ یَکُنَّ یُخَالِطْنَ کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَطُوفُ حَجْرَۃً مِنَ الرِّجَالِ لاَ تُخَالِطُہُمْ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ : انْطَلِقِی نَسْتَلِمْ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ : انْطَلِقِی عَنْکِ فَأَبَتْ فَخَرَجْنَ مُتَنَکِّرَاتٍ بِاللَّیْلِ وَیَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ وَلَکِنَّہُنَّ کُنَّ إِذَا دَخَلْنَ الْبَیْتَ قُمْنَ حَتَّی یَدْخُلْنَ وَأُخْرِجَ الرِّجَالُ وَکُنْتُ آتِی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَا وَعُبَیْدٌ وَہِیَ مُجَاوِرَۃٌ فِی جَوْفِ ثَبِیرٍ فَقُلْت : وَمَا حِجَابُہَا؟ قَالَ : ہِیَ فِی قُبَّۃٍ تُرْکِیَّۃٍ لَہَا غِشَائٌ وَمَا بَیْنَنَا وَبَیْنَہَا غَیْرُ ذَلِکَ وَرَأَیْتُ عَلَیْہَا دِرْعًا مُوَرَّدًا۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۳۸۔ عبدالرزاق ۹۰۱۸]
(٩٢٤٨) جب ہشام نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے روکا تو عطاء نے کہا : تو ان کو کیسے منع کرتا ہے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں نے طواف کیا ہے، میں نے کہا : کیا حجاب سے پہلے یا بعد میں ؟ کہنے لگے : میری عمر کی قسم میں نے ان کو حجاب کے بعد ہی پایا ہے، میں نے کہا : وہ مردوں کے ساتھ کیسے خلط ملط ہوجاتی تھیں، کہنے لگے کہ وہ خلط ملط نہیں ہوتی تھیں، سیدہ عائشہ (رض) مردوں سے دور رہ کر طواف کرتیں، ان میں نہ گھس جاتیں ایک عورت نے کہا : اے ام المومنین ! آئیں ہم استلام کریں تو انھوں نے کہا : تو ہی چلی جا تو اس نے انکار کیا تو وہ رات کے وقت اجنبی بن کر نکلیں اور مردوں کے ساتھ طواف کیا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتیں تو کھڑی ہوجاتیں حتیٰ کہ وہ عورتیں داخل ہوجائیں اور مردوں کو نکال دیا جاتا اور میں اور سیدہ عائشہ (رض) کے پاس جاتے اور وہ ثبیر میں بیٹھی ہوتیں، میں نے کہا اور اس کا حجاب کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : وہ ترکی قبہ میں تھیں اور اس کا پردہ تھا ہمارے اور ان کے درمیان اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اور میں نے ان پر گلابی چادر دیکھی۔