(۹۲۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی فُدَیْکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : فِیمَ الرَّمَلاَنُ الآنَ وَالْکَشْفُ عَنِ الْمَنَاکِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّہُ الإِسْلاَمَ وَنَفَی الْکُفْرَ وَأَہْلَہُ وَمَعَ ذَلِکَ لاَ نَتْرُکُ شَیْئًا کُنَّا نَصْنَعُہُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -۔
[صحیح۔ ابوداود ۱۸۸۷۱۔ ابن ماجہ ۲۹۵۲]
(٩٢٥٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب رمل اور کندھوں کو ننگا کرنے کی ضرورت کہاں، جب کہ اللہ نے اسلام کو غالب اور کفر واہل کفر کو بھگا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس کام کو چھوڑنے والے نہیں ہیں جسے ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا ہے۔