(۹۲۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ عَنْ مَنْبُوذِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ أُمِّہِ : أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَدَخَلَتْ عَلَیْہَا مَوْلاَۃٌ لَہَا فَقَالَتْ لَہَا : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ طُفْتُ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَاسْتَلَمْتُ الرُّکْنَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لاَ آجَرَکِ اللَّہُ لاَ آجَرَکِ اللَّہُ تُدَافِعِینَ الرِّجَالَ أَلاَ کَبَّرْتِ وَمَرَرْتِ۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ لَہُنَّ : إِذَا وَجَدْتُنَّ فُرْجَۃً مِنَ النَّاسِ فَاسْتَلِمْنَ وَإِلاَّ فَکَبِّرْنَ وَامْضِینَ۔ [ضعیف۔ شافعی ۵۹۵]
(٩٢٦٨) منبوذ بن ابی سلیمان فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) کے پاس تھیں کہ ان کی ایک غلام عورت آئی اور کہنے لگی : اے ام المومنین ! میں نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگائے ہیں اور رکن کا استلام صرف دو مرتبہ کیا ہے یا تین مرتبہ تو انھوں نے کہا : اللہ تیرا بھلا کرے تو مردوں کے ساتھ دھکم پیل کرتی رہی ہے ؟ تو تکبیر کہہ کر کیوں نہیں گزرتی گئی۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں سے کہتے تھے، جب انھیں لوگوں سے آسانی ہو (بھیڑ نہ ہو) تو وہ استلام کرلیں ، وگرنہ تکبیر کہیں اور گزر جائیں۔