(۹۲۸۸)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أُحَبُّ کُلَّمَا حَاذَی بِہِ یَعْنِی بِالْحَجَرِ الأَسْوَدِ أَنْ یُکَبِّرَ وَأَنْ یَقُولَ فِی رَمَلِہِ : اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَسَعْیًا مَشْکُورًا وَیَقُولُ فِی الأَطْوَافِ الأَرْبَعَۃِ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاعْفُ عَمَّا تَعْلَمُ وَأَنْتَ الأَعَزُّ الأَکْرَمُ اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ [صحیح۔ شافعی فی الام ۲/ ۳۲۲]
(٩٢٨٨) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : میں پسند کرتا ہوں کہ جب بھی بندہ حجر اسود کے برابر ہو تو تکبیر کہے اور اپنے رمل میں کہے : اے اللہ ! اس کو حج مبرور بنا دے اور گناہ کو بخشا ہوا اور سعی کو قدر کیا ہوا اور باقی چار چکروں میں کہے : اے اللہ ! بخش دے اور رحم کر اور جو تو جانتا ہے اس سے درگزر کر اور تو ہی عزت و کرم والا ہے، اے اللہ ! ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔