(۹۳۴۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِیُّ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : ہَلْ مِنْ قَوْلٍ کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَلْزَمُہُ ؟ قَالَ : لاَ تَسْأَلْ عَنْ ذَلِکَ فَإِنَّ ذَلِکَ لَیْسَ بِوَاجِبٍ فَأَبَیْتُ أَنْ أَدَعَہُ حَتَّی یُخْبِرَنِی قَالَ : کَانَ یُطِیلُ الْقِیَامَ حَتَّی لَوْلاَ الْحَیَائُ مِنْہُ لَجَلَسْنَا فَیُکَبِّرُ ثَلاَثًا ثُمَّ یَقُولُ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) ثُمَّ یَدْعُو طَوِیلاً یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَیَخْفِضُہُ حَتَّی إِنَّہُ لَیَسْأَلُہُ أَنْ یَقْضِیَ عَنْہُ مَغْرَمَہُ فِیمَا سَأَلَ ثُمَّ یُکَبِّرُ ثَلاَثًا ثُمَّ یَقُولُ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) ثُمَّ یَسْأَلُ طَوِیلاً کَذَلِکَ حَتَّی یَفْعَلَ ذَلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ یَقُولُ ذَلِکَ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی کُلِّ مَا حَجَّ وَاعْتَمَرَ۔ [ضعیف]
(٩٣٤٧) ابن جریر فرماتے ہیں کہ میں نے نافع سے کہا : کوئی بات ہے جس کو عبداللہ بن عمر لازم پکڑتے تھے تو انھوں نے کہا : آپ اس بارے میں سوال نہ کریں ، یہ واجب نہیں ہے تو میں نے انھیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک انھوں نے بتایا نہیں، انھوں نے کہا : کہ وہ بہت لمبا قیام کرتے تھے اگر ہمیں ان سے حیا نہ ہوگا تو ہم بیٹھ جاتے وہ تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے اللہ سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہی اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے، پھر لمبی دعا کرتے اور آواز کو کبھی بلند اور کبھی پست کرتے حتیٰ کہ وہ سوال کرتے کہ اس کی چٹی پوری کر دے جو اس نے مانگا ہے پھر تین مرتبہ تکبیر کہتے پھر کہتے : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔۔۔ الخ پھر اسی طرح لمبی دعا کرتے حتیٰ کہ یہ عمل سات مرتبہ دہراتے۔ صفا اور مروہ پر ہر حج و عمرہ میں ایسے ہی کرتے۔