(۹۳۵۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَلَبَّیْنَا بِالْحَجِّ وَقَدِمْنَا مَکَّۃَ لأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِی الْحَجَّۃِ فَأَمَرَنَا النَّبِیُّ -ﷺ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَنَجْعَلَہَا عُمْرَۃً وَنَحِلَّ إِلاَّ مَنْ کَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ وَلَمْ یَکُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا الْہَدْیُ غَیْرَ النَّبِیِّ -ﷺ وَطَلْحَۃَ وَجَائَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ وَمَعَہُ ہَدْیٌ فَقَالَ : أَہْلَلْتُ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَقُلْنَا نَنْطَلِقُ إِلَی مِنًی وَذَکَرُ أَحَدِنَا یَقْطُرُ مَنِیًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ :(( لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَہْدَیْتُ وَلَوْلاَ أَنْ مَعِیَ الْہَدْیُ لأَحْلَلْتُ ))۔ قَالَ: وَلَقِیَہُ سُرَاقَۃُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَنَا ہَذِہِ خَاصَّۃً أَمْ لِلأَبَدِ قَالَ : ((لاَ بَلْ لِلأَبَدِ ))۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدِمَتْ مَکَّۃَ وَہِیَ حَائِضٌ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ أَنْ تَنْسُکَ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنْ لاَ تَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَلاَ تُصَلِّیَ حَتَّی تَطْہُرَ فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَائَ قَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّۃٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ ابْنَ أَبِی بَکْرٍ أَنْ یَنْطَلِقَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَۃً فِی ذِی الْحَجَّۃِ بَعْدَ أَیَّامِ الْحَجِّ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۰۳]
(٩٣٥٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور حج کا تلبیہ کہا ، ہم چار ذوالحجہ کو مکہ میں پہنچے تو ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ہم بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کریں اور اس کو عمرہ بنا کر حلال ہوجائیں ، سوائے اس آدمی کے جس کے پاس قربانی ہے اور ہم میں سے کسی کے پاس بھی قربانی نہیں تھی ، سوائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور طلحہ کے اور علی (رض) یمن سے آئے۔ ان کے پاس بھی قربانی تھی تو انھوں نے کہا : میں بھی وہی تلبیہ کہتا ہوں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا تو ہم نے کہا : ہم منیٰ جائیں گے اور ہمارے ذکر منی کے قطرے بہا رہے ہوں گے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنے اس معاملہ کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا، کہتے ہیں کہ آپ کو سراقہ ملا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے اور عائشہ (رض) حیض کی حالت میں مکہ پہنچیں تو ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ تمام تر مناسکِ حج ادا کرے، لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ پاک ہوجائے، تو جب وہ بطحاء میں اترے تو عائشہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ حج اور عمرہ کر کے جاؤگے اور میں صرف حج کر کے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے بیٹے کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ تنعیم تک جائے، تو انھوں نے ذی الحجہ میں ایام حج کے بعد عمرہ کیا۔