(۹۴۴۱)أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ قَالَ : أَفَاضَ النَّبِیُّ -ﷺ مِنْ عَرَفَاتٍ وَأُسَامَۃُ رِدْفُہُ فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ وَہُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ یُفِیضَ وَہُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ لاَ تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ فَلَمَّا أَفَاضَ سَارَ عَلَی ہَیْئَتِہِ حَتَّی أَتَی جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُہُ فَقَالَ الْفَضْلُ : مَا زَالَ النَّبِیُّ -ﷺ یُلَبِّی حَتَّی أَتَی الْجَمْرَۃَ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَلَمْ یَذْکُرِ الْفَضْلَ فِی أَوَّلِہِ وَإِنَّمَا ذَکَرَہُ فِی آخِرِہِ وَقَدْ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۰۱۔ مسلم ۱۲۸۶]
(٩٤٤١) فضل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے واپس آئے اور اسامہ (رض) آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر گھوم رہی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹنے سے پہلے عرفات میں ہی تھے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ہوا تھا، وہ سر سے تجاوز نہ کرتے تھے تو جب واپس لوٹے تو اپنی حالت پر آگئے ۔ حتیٰ کہ ” جمع “ میں پہنچے ۔ پھر وہاں سے لوٹے تو فضل آپ کے پیچھے سوار تھے، فضل فرماتے ہیں کہ نبی تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کے پاس آئے۔