(۹۴۴۷)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ابْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ النَّہْدِیِّ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ : یَا سَعِیدُ مَا لِی لاَ أَسْمَعُ النَّاسَ یُلَبُّونَ؟ قُلْتُ : یَخَافُونَ مُعَاوِیَۃَ فَخَرَجَ ابْنُ الْعَبَّاسِ مِنْ فُسْطَاطِہِ فَقَالَ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ مُعَاوِیَۃَ اللَّہُمَّ الْعَنْہُمْ فَقَدْ تَرَکُوا السُّنَّۃَ مِنْ بُغْضِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
[حسن۔ نسائی ۲۰۰۶۔ ابن خزیمہ ۲۸۳۰]
(٩٤٤٧) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کے پاس عرفہ میں تھے تو انھوں نے کہا : سعید ! کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو تلبیہ کہتے نہیں سنتا۔ میں نے کہا : وہ معاویہ (رض) سے ڈرتے ہیں تو وہ اپنے خیمہ سے نکلے اور کہا : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ اگرچہ معاویہ کی ناک خاک آلود ہوجائے، اے اللہ ! ان پر لعنت کر ، انھوں نے علی (رض) سے بغض کی وجہ سے سنت کو چھوڑ دیا ہے۔