(۹۴۵۰)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا مُحَاضِرٌ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَتْ قُرَیْشٌ وَمَنْ دَانَ دِینَہَا یَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ وَکَانُوا یُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَکَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ یَقِفُونَ بِعَرَفَۃَ فَلَمَّا جَائَ الإِسْلاَمُ أَمَرَ اللَّہُ نَبِیَّہُ -ﷺ أَنْ یَأْتِیَ عَرَفَاتٍ فَیَقِفَ بِہَا ثُمَّ یُفِیضَ مِنْہَا فَذَلِکَ قَوْلُہُ: {ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۴۸۔ مسلم ۱۲۱۹]
(٩٤٥٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ قریش اور ان کے دین کے پیرو کار لوگ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور انھیں حمس کہا جاتا تھا اور باقی سارے اہل عرب عرفہ میں ٹھہرتے تھے ۔ جب اسلام آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ عرفات جائیں اور وہاں ٹھہریں اور وہیں سے نکلیں۔ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔