(۹۴۷۵)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : ((أَکْثَرُ دُعَائِی وَدُعَائِ الأَنْبِیَائِ قَبْلِی بِعَرَفَۃَ لاَ إِلَہ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا اللَّہُمَّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأَمْرِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی اللَّیْلِ وَشَرِّ مَا یَلِجُ فِی النَّہَارِ وَشَرِّ مَا تَہُبُّ بِہِ الرِّیَاحُ وَمِنْ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّہْرِ)) ۔
تَفَرَّدَ بِہِ مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَلَمْ یُدْرِکْ أَخُوہُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی شُعْبَۃَ أَنَّہُ قَالَ : رَمَقْتُ ابْنَ عُمَرَ وَہُوَ بِعَرَفَۃَ لأَسْمَعَ مَا یَدْعُو قَالَ فَمَا زَادَ عَلَی أَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔[ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۱۵۱۳۰]
(٩٤٧٥) علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی عرفہ میں زیادہ تر دعا یہ ہے : ترجمہ : ” اللہ کے علاوئہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ ! میرے دل، سماعت، بصارت میں نور بنا دے، اے اللہ ! میرا سینہ کھول دے اور میرا معاملہ آسان کر دے ۔ میں سینے کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں اور معاملوں کے بکھرنے اور قبر کے فتنہ سے۔ میں دن اور رات میں داخل ہونے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور زمانے کی مصیبتوں اور جس چیز کے ساتھ ہوا چلتی ہے اس کے شر سے۔
ابو شعبہ سے روایت ہے : کہ میں نے ابن عمر (رض) پر اپنی نظر جمائے رکھی جب وہ عرفہ میں تھے ، جو وہ پڑھ رہے تھے، میں اس کو سن رہا تھا، فرماتے ہیں کہ انھوں نے لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔