hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9486

.

سنن البيهقي

9486
Sunan Al Bayhaqi
(۹۴۸۱)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنِی ابْنٌ لِکِنَانَۃَ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لأُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ فَأَکْثَرَ الدُّعَائَ فَأَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إِلَیْہِ : إِنِّی قَدْ فَعَلْتُ إِلاَّ ظُلْمَ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَأَمَّا ذُنُوبَہُمْ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ فَقَدْ غَفَرْتُہَا فَقَالَ : یَا رَبِّ إِنَّکَ قَادِرٌ عَلَی أَنْ تُثِیبَ ہَذَا الْمَظْلُومَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ وَتَغْفِرَ لِہَذَا الظَّالِمِ ۔ فَلَمْ یُجِبْہُ تِلْکَ الْعَشِیَّۃَ فَلَمَّا کَانَ غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَعَادَ الدُّعَائَ فَأَجَابَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ لَہُ بَعْضُ أَصْحَابِہِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَبَسَّمْتَ فِی سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَبَسَّمُ فِیہَا قَالَ : تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّہِ إِبْلِیسَ إِنَّہُ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّہَ قَدِ اسْتَجَابَ لِی فِی أُمَّتِی أَہْوَی یَدْعُو بِالْوَیْلِ وَالثُّبُورِ وَیَحْثُو التُّرَابَ عَلَی رَأْسِہِ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ ۳۰۱۳]
(٩٤٨١) عباس بن مرداس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی رات اپنی امت کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی تو خوب دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ میں نے یہ کام کردیا ہے کہ میرے اور ان کے درمیان جو گناہ ہیں وہ معاف کیے ، لیکن ان کا ظلم معاف نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس بات پر قادر ہے کہ اس مظلوم کو اس کے ظلم سے بہتر ثواب دے دے اور اس ظالم کو معاف کر دے تو یہ دعا اس رات قبول نہ ہوئی۔ جب مزدلفہ کی صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا پھر دہرائی تو اللہ تعالیٰ نے قبول فرماتے ہوئے کہا : میں نے ان کو معاف کردیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے وقت میں مسکرائے ہیں کہ اس وقت پہلے نہیں مسکرائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کے دشمن ابلیس پر مسکرا رہا ہوں کہ جب اس کو پتہ چلا کہ میری امت کے بارے میں میری دعا قبول ہوگئی ہے تو وہ ہلاکت و بربادی کی بدعا کرنے لگا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔