(۹۴۸۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حِینَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَۃَ؟ فَقَالَ : دَفَعَ مِنْ عَرَفَۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ عِنْدَ الشِّعْبِ عَدَلَ إِلَیْہِ فَنَزَلَ فَبَالَ فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا فَقُلْتُ : أَلاَ تُصَلِّی فَقَالَ : ((الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ))۔ ثُمَّ رَکِبَ حَتَّی أَتَی جَمْعًا وَنَزَل فَتَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّی صَلاَۃَ الْعِشَائِ رَکْعَتَیْنِ وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا سُبْحَۃٌ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٩٤٨٩) کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عرفہ سے لوٹے تو انھوں نے کیسے کیا : تو انھوں نے کہا : عرفہ سے لوٹے حتیٰ کہ جب گھاٹی کے قریب آئے تو اس کی طرف مائل ہوئے ، اترے اور پیشاب کیا ، میں آپ کے پاس پانی لایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہلکا سا وضو کیا تو میں نے کہا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز نہیں پڑھنی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز تیرے آگے ہے، پھر سوار ہوئے حتیٰ کہ جمع میں پہنچے، اترے اور نماز کے لیے وضو کیا ۔ پھر مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشا کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان کوئی نوافل وغیرہ نہ پڑھے۔