(۹۵۲۶)حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ وَہُوَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ قَالَ وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْعَبَّاسِ یُحَدِّثُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَالْفَضْلُ رَدِیفُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَالنَّاسُ کَثِیرٌ حَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَلَمَّا کَثُرَ النَّاسُ قُلْتُ سَیُحَدِّثُنِی الْفَضْلُ عَمَّا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ قَالَ الْفَضْلُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَہُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُمْسِکُ بِزِمَامِ بَعِیرِہِ وَجَعَلَ یُنَادِی النَّاسَ : ((عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ ))۔ فَلَمَّا بَلَغَ الْمُزْدَلِفَۃَ نَزَلَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ الآخِرَۃَ جَمِیعًا حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّی الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ثُمَّ دَفَعَ وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَہُ یُمْسِکُ بِرَأْسِ بَعِیرِہِ وَجَعَلَ یَقُولُ : ((أَیُّہَا النَّاسُ عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ)) ۔ حَتَّی إِذَا بَلَغَ مُحَسِّرًا أَوْضَعَ شَیْئًا وَجَعَلَ یَقُولُ : ((عَلَیْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ)) ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ أَخِیہِ۔
[حسن۔ نسائی ۳۰۲۰۔ احمد ۱/ ۲۱۰۔ دارمی ۱۸۹۱۔ ابن خزیمہ ۲۸۴۳]
(٩٥٢٦) عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب عرفہ کا دن تھا تو فضل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد لوگ بہت زیادہ تھے ۔ جب لوگ زیادہ ہوگئے تو میں نے کہا : مجھے فضل بتاہی دے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کیا، فضل نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گئے اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی چلے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے لوگوں کو کہنے لگے : تم سکون کو لازم پکڑو۔ جب مزدلفہ پہنچے تو اترے اور مغرب اور عشاء ادا کی حتیٰ کہ فجر طلوع ہوئی ، صبح پڑھائی پھر مشعر حرام کے پاس مزدلفہ میں ٹھہرے رہے ۔ پھر لوٹے اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ۔ آپ نے اپنے اونٹ کے سر کو پکڑا ہوا تھا اور کہہ رہے تھے۔ اے لوگو ! آرام و سکون سے چلو حتیٰ کہ جب محسر میں پہنچے تورفتار تھوڑی سی تیز کی اور کہنے لگے : چھوٹی کنکریوں کو لازم پکڑو۔