(۹۵۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ۔
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ قَالَ فِی عَشِیَّۃِ عَرَفَۃَ وَغَدَاۃِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِینَ دَفَعُوا : ((عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ)) ۔ وَہُوَ کَافٌّ نَاقَتَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَہُوَ مِنْ مِنًی قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ الَّذِی تُرْمَی بِہِ الْجَمْرَۃُ)) ۔ وَقَالَ : لَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۲]
(٩٥٣٣) فضل بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے ، فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح جب لوگ جانے لگے تو فرمایا : تم سکون کو لازم پکڑو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی کو روکنے والے تھے حتیٰ کہ محسر میں داخل ہوئے اور وہ منیٰ میں سے ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم چھوٹی چھوٹی کنکریاں پکڑو جن سے جمرہ کو مارا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کو مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔