(۹۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ یَعْنِی ابْنَ کَثِیرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ أَنَّ أَبَا مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أُمَّ ہَانِئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَتْہُ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ دَخَلَ عَلَیْہَا وَہُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی غَزْوَۃِ الْفَتْحِ بِمَکَّۃَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَتْ : ثُمَّ سُکِبَ لَہُ غُسْلٌ ، فَسَتَرَتْہُ ابْنَتُہُ فَاطِمَۃُ بِثَوْبِہِ ، فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَہُ فَالْتَحَفَ بِہِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانَ سَجَدَاتٍ وَذَلِکَ ضُحًی۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۶]
(٩٥٥) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) ام ھانی (رض) کے پاس گئے، وہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھی۔۔۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے غسل کا پانی ڈالا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کرلیا تو آپ نے اس کپڑے کو پکڑا، آپ نے اس کو لپیٹ لیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور چاشت کی آٹھ رکعات ادا کیں۔