(۹۵۴۹) وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَرْمَوْیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ جَمْعٍ فَمَا زَالَ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِیَ ثُمَّ قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی نَاوِلْنِی سَبْعَۃَ أَحْجَارٍ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ حَتَّی إِذَا فَرَغ قَالَ : اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْتُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ صَنَعَ۔ [منکر۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۰۱۶]
(٩٥٤٩) عبدالرحمن بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں عبداللہ کے ساتھ جمع سے لوٹا تو وہ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا ، پھر وادی کے درمیان میں ہوئے اور کہا : اے میرے بھتیجے ! مجھے سات پتھر پکڑاؤ تو انھوں نے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہا : اے اللہ ! اس حج کو مقبول بنا لے اور گناہوں کو معاف فرما دے ۔ پھر کہا : میں نے اسی طرح کرتے ہوئے اس ذات کو دیکھا جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی۔