(۹۵۶۵)وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَزْمَہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یَأْتِینَا أُغَیْلِمَۃَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَحَمَلَنَا عَلَی حُمُرَاتِنَا وَلَطَحَ أَفْخَاذَنَا ثُمَّ قَالَ : لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَۃَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلاَ أَظُنُّ أَحَدًا یَرْمِیہَا حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٩٥٦٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم بنی عبدالمطلب کے نوجوانوں کے پاس آتے اور ہمیں ہمارے گدھوں پر سوار کرتے اور ہماری رانوں پر تھپکی دیتے۔ پھر فرماتے : جمرہ کو سورج طلوع ہونے سے پہلے نہ مارو اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی نے سورج چڑھنے سے پہلے رمی کی ہو۔