(۹۵۷۳)أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارِ وَعَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ یَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَہَا أَنْ تُعَجِّلَ الإِفَاضَۃَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّی تَأْتِیَ مَکَّۃَ فَتُصَلِّی بِہَا الصُّبْحَ وَکَانَ یَوْمُہَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَہُ۔
قَالَ وَحَّدَثَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ أَثِقُ بِہِ مِنَ الْمَشْرِقِیِّینِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ مِثْلَہُ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ فِی الإِمْلاَئِ وَرَوَاہُ فِی الْمُخْتَصَرِ الْکَبِیرِ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : حَتَّی تَرْمِیَ الْجَمْرَۃَ وَتُوَافِیَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ وَکَانَ یَوْمَہَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَہَ أَوْ تُوَافِیَہُ وَقَالَ فِی الإِسْنَادِ الثَّانِی أَخْبَرَنِی الثِّقَۃُ عَنْ ہِشَامٍ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ فَذَکَرَہُ وَکَأَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخَذَہُ مِنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرِ وَقَدْ رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ مَوْصُولاً۔ [منکر۔ شافعی ۱۷۰۱]
(٩٥٧٣) (الف) عروہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ کے پاس نحر والے دن گئے تو انھیں حکم دیا کہ وہ جلدی جمع سے لوٹ جائیں حتیٰ کہ مکہ میں جا کر صبح کی نماز ادا کریں اور وہ ان کا دن تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پسند کیا کہ یہ آپ کے ساتھ ملیں۔
(ب) ایک دوسری سند سے ام سلمہ اسی کی مثل روایت بیان کرتی ہیں : اسی طرح اس کو انھوں نے املاء میں روایت کیا ہے اور المختصر الکبیر میں دونوں سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے مگر یہ کہ انھوں نے فرمایا : حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور وہ مکہ میں صبح کی نماز کے وقت ان کے ساتھ ملیں اور وہ ان (ام سلمہ) کا دن تھا پس آپ نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ملیں۔
اور دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔