(۹۶۰۰)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ عَنْ أُمِّہِ وَأُمُّہُ زَیْنَبُ بِنْتُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : کَانَتْ اللَّیْلَۃُ الَّتِی یَدُورُ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَسَائَ لَیْلَۃِ النَّحْرِ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ عِنْدِی فَدَخَلَ عَلَیَّ وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ وَرَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِی أُمَیَّۃَ مُتَقَمِّصَیْنِ فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : أَفَضْتُمَا ۔ قَالاَ : لاَ۔ قَالَ : فَانْزِعَا قَمِیصَکُمَا ۔ فَنَزَعَاہَا فَقَالَ لَہُ وَہْبٌ : وَلِمَ یَا رَسُولُ اللَّہِ؟ فَقَالَ : ہَذَا یَوْمٌ أُرْخِصَ لَکُمْ فِیہِ إِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ وَنَحَرْتُمْ ہَدْیًا إِنْ کَانَ لَکُمْ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَرُمْتُمْ مِنْہُ إِلاَّ النِّسَائَ حَتَّی تَطُوفُوا بِالْبَیْتِ فَإِذَا أَمْسَیْتُمْ وَلَمْ تُفِیضُوا صِرْتُمْ حُرُمًا کَمَا کُنْتُمْ أَوَّلَ مُرَّۃٍ حَتَّی تَطُوفُوا بِالْبَیْتِ ۔ [حسن۔ ابوداود ۱۹۹۹۔ احمد ۶/ ۲۹۵۔ ابن خزیمہ ۲۹۵۸]
(٩٦٠٠) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نحر والی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باری میرے پاس تھی تو میرے پاس وہب بن زمعہ اور ابن امیہ کا ایک اور آدمی آیا ، انھوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، ان دونوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے طواف افاضہ کرلیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنی یہ قمیصیں اتار دو تو انھوں نے اتار دیں ۔ وہب نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس وجہ سے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دن اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی ہے کہ جب تم رمی کرلو اور اگر قربانی ہے تو وہ بھی کرلو تو پھر تم ہر چیز سے حلال ہو جو تم پر حرام ہوئی تھی عورتوں کے علاوہ حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کرلو تو جب شام ہوجائے اور تم نے افاضہ نہ کیا ہو تو تم پھر محرم بن جاؤ گے جیسے کہ تم پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف افاضہ کرلو۔