(۹۶۲۳)أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَأَتَاہُ رَجُلٌ یَوْمَ النَّحْرِ وَہُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ وَأَتَاہُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّی ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ وَأَتَاہُ آخَرُ فَقَالَ : أَفَضْتُ إِلَی الْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ : فَمَا رَأَیْتُہُ سُئِلَ یَوْمَئِذٍ عَنْ شَیْئٍ إِلاَّ قَالَ : افْعَلُوا وَلاَ حَرَجَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا مِنْ حَدِیثِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۰۶۔ احمد ۲/ ۲۱۰۔ دارقطنی ۲/۲۵۱]
(٩٦٢٣) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی نحر والے دن آیا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کے پاس کھڑے تھے ، اس نے کہا : میں نے رمی کرنے پہلے سرمنڈا لیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کر کوئی حرج نہیں ۔ ایک دوسرا آیا اور اس نے کہا : میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کرلے کوئی حرج نہیں، ایک اور آیا، اس نے کہا : میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف افاضہ کرلیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کرلے کوئی حرج نہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سوال کرنے والوں کو آپ کا یہی جواب دیتے سنا ہے، یعنی کرلے کوئی حرج نہیں۔