(۹۶۲۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ ہُوَ ابْنُ رُفَیْعٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ : إِنِّی ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ۔ قَالَ آخَرُ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ : اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ وَزَادَ فِی مَتْنِہِ : زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : لاَ حَرَجَ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۳۵]
(٩٦٢٨) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمی کر کوئی حرج نہیں ، دوسرے نے کہا : میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قربانی کرلے کوئی حرج نہیں۔ ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے رمی سے پہلے زیارت کرلی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی حرج نہیں۔