(۹۶۴۱)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَمَّا إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَإِنَّہُ أَتَی مَنْزِلَہُ مِنْ مِنًی فَبَاتَ بِہَا حَتَّی أَصْبَحَ وَطَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ أَتَی مَنْزِلَہُ مِنْ عَرَفَۃَ فَوَقَفَ حَتَّی إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ فَأَتَی مَنْزِلَہُ مِنْ جَمْعٍ فَبَاتَ بِہِ حَتَّی إِذَا کَانَ وَقْتُ صَلاَۃِ الْمُعَجَّلَۃِ وَقَفَ حَتَّی إِذَا کَانَ قَدْرُ صَلاَۃِ الْمُسْفِرَۃِ أَفَاضَ وَتِلْکَ مِلَّۃُ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَقَدْ أُمِرَ نَبِیُّکُمْ -ﷺ أَنْ یَتَّبِعَہُ۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۲۸۰۳۔ ابن ابی شیبہ ۱۴۵۴۸]
(٩٦٤١) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) منیٰ میں اپنی جگہ پر آئے، وہیں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور سورج طلوع ہوا تو عرفہ میں اپنی جگہ پر آئے ، وہیں ٹھہرے حتیٰ کہ جب سورج غروب ہوگیا لوٹے اور جمع میں اپنی جگہ پر آئے، وہیں رات گزاری حتیٰ کہ جب صلوۃ المعجلہ کا وقت آیا تو ٹھہرے حتیٰ کہ صلوۃ المسفرہ کا وقت آیا تو لوٹے اور یہ تمہارے والد ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔