(۹۶۴۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ مَرْفُوعًا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -۔زَادَ : ثُمَّ أَتَی بِہِ الْبَیْتَ فَطَافَ بِہِ ثُمَّ رَجَعَ بِہِ إِلَی مِنًی فَأَقَامَ فِیہَا تِلْکَ الأَیَّامَ ثُمَّ أَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إِلَی مُحَمَّدٍ -ﷺ (أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا) وَالْمَوْقُوفُ أَصْوَبُ۔
(٩٦٤٥) ایک دوسری سند کے ساتھ اس کے ہم معنی مرفوع روایت منقول ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ بیت اللہ کے پاس آئے، اس کا طواف کیا۔ پھر واپس منیٰ کی طرف گئے تو وہاں وہ دن گزارے، پھر اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی : { ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا } [النحل : ١٢٣] زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔